نئی دہلی :23/نومبر (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) بی جے پی کے فائر برانڈ لیڈر اور مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے ایک بار پھر سے ہندو راگ الاپا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر ملک میں ہندو مذہب نہیں بچے گا تو ملک میں بیٹی اور بہنیں بھی نہیں باقی رہیں گی۔ جمعرات کو اپنے پارلیمانی حلقہ نوادہ میں ایک یگیہ میں شامل ہونے پہنچے گری راج سنگھ نے کہا کہ ہندو تہذیب خطرے میں ہے اور اسی وجہ سے انہیں اب سیاست میں بھی کوئی دلچسپی نہیں بچی ہے۔ یگیہ میں پہنچے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے گری راج سنگھ نے کشمیر میں ہندوؤں کے اوپر ہوئے خودساختہ ظلم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندو سماج کو جم کر روندا گیااور کہا کہ جس طریقے سے 1990 میں 7 لاکھ ہندوؤں کو بھگایا گیا اس کے بعد بھی ملک کے کسی بھی ہندو کے دل میں غم اور تڑپ بیدار نہیں ہوا ۔ملک میں ہندوؤں کی تیزی سے گھٹ رہی آبادی کو لے کر بھی گری راج سنگھ فکر مند ہیں، انہوں نے اپنی زعفرانی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آبادی کے کنٹرول کے لئے جلد سے جلد قانون بنانے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے وہ پورے ملک میں گھوم کر مظاہرہ کر رہے ہیں۔ گری راج نے کہا کہ ملک کے جس حصے میں ہندوؤں کی آبادی کم ہوئی ہے وہاں پر سماجی ہم آہنگی باقی نہیں ہے ۔ اس سے پہلے بیگو سرائے میں میڈیا سے بات چیت میں مرکزی وزیر گری راج نے کہا کہ بی جے پی نے کبھی نہیں کہا کہ رام مندر نہیں بنے گا۔ مذہب کی بنیاد پر سال 1947 میں ملک کا بٹوارہ ہوا تھا۔ ایسی صورت میں سناتن دھرم کے لوگ میں غم و غصہ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سناتن دھرم کے لوگ بھیک منگنے کی طرح رام مندر کے لئے کورٹ، ممبران پارلیمنٹ اور رہنماؤں کی جانب ٹکٹکی لگائے دیکھ رہے ہیں۔ ایسے میں بھی رام مندر ایودھیا میں نہیں بنے گا، تو کیا پاکستان میں بنے گا؟ ۔